Saudi Arabia's blunt message to Iran Patience is running out, clear signal of retaliation
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)الجزیرہ نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایران کو سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کے خلاف حملوں پر صبر کی پالیسی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بھرپور ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران فوری طور پر اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور خطے کے ممالک کو نشانہ بنانا بند کرے۔ ان کے مطابق حالیہ حملوں کی نوعیت اور درستگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ممکنہ دفاعی اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے، تاہم ایران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے پاس مؤثر دفاعی و عسکری صلاحیت موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صبر کی ایک حد ہوتی ہے اور ایران کو یہ پیغام سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریاض اور مشرقی علاقوں کو نشانہ بنانے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی درجنوں میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم بعض مقامات پر گرنے والے ملبے سے معمولی نقصان اور عارضی خلل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران کی یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے تیار کی جا رہی تھی، جس کا مقصد خطے میں دباؤ پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہو جائے گی، لیکن ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا۔



