no-fuel-crisis-pakistan-has-ample-reserves-till-march-31-government-assures
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں 31 مارچ تک پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ موجودہ درآمدی منصوبہ بندی کے تحت اپریل کے وسط تک بھی ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں متعلقہ وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر میں خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور سپلائی چین کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ موجودہ اسٹاک پوزیشن کے مطابق مارچ کی تمام ضروریات پوری طرح محفوظ ہیں جبکہ اپریل کے لیے بھی سپلائی کا مؤثر نظام ترتیب دیا جا چکا ہے۔ مزید یہ کہ ایندھن کی دستیابی کو اپریل کے آخر تک بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک سپلائی روٹ پر انحصار کم کیا جا سکے اور مجموعی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
تاہم حکام نے عندیہ دیا کہ اگر علاقائی صورتحال طویل ہوئی تو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں عوام کو کسی قسم کی گھبراہٹ یا غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مارکیٹ کی کڑی نگرانی کی جائے اور کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ملک میں توانائی کی سپلائی مستحکم اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔




