
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی رابطے کی ویب سایٔٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈی جی آیٔ ایس پی آر نے بتایا کہ ابلوچستان کے ضلع خاران میں 15 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 15 سے 20 دہشت گردوں نے شہر میں ایک منظم اور مربوط دہشت گرد کارروائی کی، جسے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں ناکام بنا دیا گیا۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے بیک وقت سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک آف پاکستان اور حبیب بینک لمیٹڈ کو نشانہ بنایا، جہاں سے 34 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔ حملہ آوروں کا مقصد شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن میں یرغمالی صورتحال پیدا کرنا تھا، تاہم فورسز کی مستعدی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی اطلاع ملتے ہی علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر بھرپور کارروائی کی گئی، جس کے بعد دہشت گرد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ بعد ازاں جاری کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر تین الگ الگ جھڑپوں میں 12 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا، جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق علاقے اور گرد و نواح میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ طور پر چھپے دہشت گرد کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بحال رکھی جا سکے۔
ترجمان سیکیورٹی فورسز نے بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں اور فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔






