India's historic defense budget, $85 billion allocated, big bet on weapons and infrastructure
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق بھارت نے مالی سال 2026 کے لیے دفاع پر 85 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو پارلیمنٹ میں سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انفراسٹرکچر کے لیے بھی 133 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران نرملا سیتارمن نے کہا کہ دفاعی اخراجات میں تقریباً 15 فیصد جبکہ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری میں 9 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، اور نایاب معدنیات کی کان کنی و پراسیسنگ جیسے شعبوں کو بھی حکومتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر پر عوامی اخراجات 2014-15 میں تقریباً 21 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب اپنی “تاریخی بلند ترین سطح” پر پہنچ چکے ہیں۔
دفاعی بجٹ میں اضافے پر وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس اقدام کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارتی افواج کو جدید لڑاکا طیارے، ڈرونز، بحری جہاز، آبدوزیں اور دیگر اہم دفاعی سازوسامان فراہم کیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا، “یہ فیصلہ ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔”
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے دوران کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے اور دونوں جانب سے ڈرونز اور میزائلوں کا بھرپور استعمال دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق بھارت اس وقت فرانس، امریکا اور جرمنی سمیت مقامی و بین الاقوامی دفاعی سپلائرز کے ساتھ بڑے معاہدوں پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اخراجات تیز رفتار معاشی نمو، مقامی صنعت کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ بجٹ کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا، “بھارت صرف تیز ترین ترقی کرتی معیشت بننے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کا ہدف رکھتا ہے۔”
وزیرِ خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، الیکٹرانکس اور کیمیکلز جیسے شعبوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے ترجیح دی جائے گی، جبکہ الیکٹرانکس کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے 5 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔




