Field Marshal Asim Munir meets Rubio, US ambassador highlights Pakistan's importance
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے پاکستان کو واشنگٹن کی عالمی اور علاقائی حکمتِ عملی میں کلیدی ملک قرار دیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں اس کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔
میونخ کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا، ہم دنیا میں گھوم سکتے ہیں — کشمیر، بھارت اور پاکستان — جہاں ہم نے ایک نہایت سنگین ایٹمی کشیدگی کا سامنا کیا تھا۔ ان کے اس بیان کو جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کے حوالے سے امریکی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
مائیک والٹز نے پاکستان کو کثیرالجہتی سفارتکاری میں بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ‘بورڈ آف پیس’ تشکیل دیا جس میں پاکستان، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ امریکی روابط کے حوالے سے بھی پاکستان کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ دوست ممالک کے نیٹ ورک میں ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خطے کے ممالک اور مسلم اکثریتی ریاستوں کے ساتھ رابطوں میں پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا کو شامل کیا۔
اس سے قبل آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں “عالمی اور علاقائی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات میونخ سکیورٹی کانفرنس کے سائیڈ لائنز پر ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جرمنی کے وزیر داخلہ الیکزینڈر ڈوبرنڈٹ، چانسلر کے خارجہ و سکیورٹی مشیر گونٹر ساٹر اور جرمن چیف آف ڈیفنس کارسٹن بریور سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں موجودہ سکیورٹی خطرات، دوطرفہ دفاعی تعاون اور عالمی امن کے لیے کثیرالجہتی مکالمے کی ضرورت پر گفتگو کی گئی۔
مزید براں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برازیل کی مسلح افواج کے جوائنٹ اسٹاف چیف رینیٹو روڈریگز ڈی اگویار فریرے اور لبنانی مسلح افواج کے کمانڈر روڈولف ہیکل سے ملاقاتوں میں دفاعی تعاون بڑھانے اور علاقائی سکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میونخ میں ہونے والی یہ سرگرمیاں پاکستان کے دفاعی تعلقات مضبوط بنانے اور شراکت دار ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کے مقصد سے کی گئیں۔




