Apple begins manufacturing in Pakistan, plans to increase local parts by 50 percent
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل جلد پاکستان میں آئی فونز کی تیاری شروع کرنے جا رہی ہے۔ حکومت نے نئے موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک میں مراعات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں زمین پر رعایتی نرخ اور 8 فیصد کارکردگی کی ترغیب شامل ہے۔ ایپل نئے فریم ورک کے تحت پاکستان میں ریفربشڈ آئی فونز تیار کر کے انہیں دوبارہ برآمد بھی کرے گی، جس سے پہلے سال تقریباً 100 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمد علی منصور نے بتایا کہ ایپل نے دو سے تین سال پرانے آئی فونز کی مرمت کے منصوبے کے ساتھ مقامی افرادی قوت کو تربیت دینے کا ماڈل اختیار کیا ہے، جیسا کہ کمپنی نے انڈونیشیا، ملائیشیا اور بھارت میں بھی کیا تھا۔ منصور کے مطابق حکومت پہلے سے موجود موبائل فون مینوفیکچررز کو 6 فیصد کارکردگی کی ترغیب دے رہی ہے، لیکن ایپل اور دیگر عالمی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے اسے 8 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی کمپنیوں سے موبائل مینوفیکچرنگ میں 557 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، اور وزیراعظم کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتیں بھی طے پا چکی ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت نہ صرف آئی فون بلکہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، سمارٹ واچ، ٹریکر اور ایئر بڈز کی مینوفیکچرنگ میں بھی سرمایہ کاری کی توقع ہے، تاکہ پاکستان کو موبائل اور الیکٹرانکس کا علاقائی مرکز بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ فون مینوفیکچررز نے وعدہ کیا ہے کہ پہلے سال میں مقامی پرزے 35 فیصد استعمال کریں گے، جو بعد میں 50 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ موجودہ وقت میں لوکلائزیشن صرف 12 فیصد ہے۔ حکومت ایکسپورٹ پر 6 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس سے جمع ہونے والی رقم موبائل مینوفیکچرنگ میں ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری پر استعمال ہوگی۔ پچاس ہزار سے ساٹھ ہزار کی قیمت کے فونز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، جبکہ ایک لاکھ سے زائد قیمت والے فونز پر یہ ٹیکس عائد ہوگا۔
ای بائیک اور الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبوں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 9 ارب روپے مختص کر کے الیکٹرک دو پہیوں پر 40 فیصد سبسڈی فراہم کی ہے اور 3 فیصد ٹیکس عائد کر کے پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ لاہور کی ایک کمپنی الیکٹرک چار پہیوں کی پیداوار شروع کر رہی ہے، جیسے آلٹو، جو سات لاکھ سے آٹھ لاکھ میں دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے مرحلے میں ای بائیک اسکیم ہر شہری تک پہنچانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور آٹو انڈسٹری کے تمام عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ سرٹیفکیٹ سمیت ہر مرحلہ شفاف ہو۔




