Political map changes in Bangladesh BNP gets two-thirds majority, Tariq Rahman's government expected
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک رائٹرز کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے عام انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت کے قریب نشستیں جیت لیں، جسے 2024 میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد پیدا ہونے والے طویل سیاسی بحران کے بعد ملک میں استحکام کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اپوزیشن جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں جیتیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ابتدائی اعداد و شمار میں بی این پی کو 181، جماعتِ اسلامی کو 61 اور دیگر کو 7 نشستیں دی گئیں، جبکہ مکمل سرکاری نتائج دوپہر سے قبل آنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
بی این پی نے کامیابی کے بعد عوام کا شکریہ ادا کیا اور قوم کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “بھاری اکثریت سے جیت کے باوجود کوئی جشن، جلوس یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی۔” بی این پی کے رہنما طاریق رحمان کے بارے میں وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ وزیرِاعظم کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ پارٹی کے بانی اور سابق صدر ضیاءالرحمان کے صاحبزادے ہیں اور دسمبر میں 18 سال بعد جلاوطنی ختم کرکے واپس ڈھاکا آئے تھے۔
یہ انتخاب 175 ملین آبادی والے ملک میں اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ شیخ حسینہ مخالف احتجاج اور پرتشدد واقعات نے گزشتہ مہینوں میں روزمرہ زندگی اور معیشت کو شدید متاثر کیا، خاص طور پر گارمنٹس انڈسٹری کو، جس میں بنگلہ دیش عالمی سطح پر دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے معاشیات کے پروفیسر سلیم ریحان نے کہا کہ مضبوط اکثریت بی این پی کو اصلاحات تیزی سے پاس کرنے اور قانون سازی میں جمود سے بچنے کی طاقت دے گی، اور یہی چیز قلیل مدت میں سیاسی استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
نتائج میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کو بڑا دھچکا لگا، جو نوجوان کارکنوں کی قیادت میں بننے والی جماعت ہے اور 2024 کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود 30 نشستوں پر مقابلے کے بعد صرف 5 نشستیں جیت سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی، پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش میں امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے بھی مبارکباد دی۔ دوسری طرف جماعتِ اسلامی نے رجحانات واضح ہونے پر شکست تسلیم کی، تاہم جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ وہ انتخابی عمل سے مطمئن نہیں اور کارکنوں سے صبر کی اپیل کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 2024 کے 42 فیصد کے مقابلے میں زیادہ رہا اور اس بار تقریباً 60 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔ الیکشن میں 2 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں تھے، جن میں بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی شامل تھی، جبکہ کم از کم 50 جماعتیں بیلٹ پر موجود تھیں۔ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ ملتوی بھی کی گئی۔ انتخابات کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوا جس میں جمنہ ٹی وی کے مطابق 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے “ہاں” جبکہ 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد ووٹرز نے “نہیں” میں ووٹ دیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر فوری طور پر کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ مجوزہ اصلاحات میں وزیرِاعظم کے لیے دو مدت کی حد، عدلیہ کی مضبوط خودمختاری، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، انتخابی ادوار میں غیر جانبدار عبوری حکومتوں کا نظام اور 300 نشستوں والی پارلیمان کے ساتھ دوسرا ایوان قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔





