New plan to make electricity cheaper Government considering restructuring power sector loans
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے نرخ کم کرنے اور صارفین کو دوبارہ قومی گرڈ کی طرف لانے کے لیے توانائی شعبے کے قرضوں کی ڈیٹ ری اسٹرکچرنگ پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بلند بجلی ٹیرف کے باعث صارفین گرڈ سے دور ہو رہے ہیں جبکہ چھتوں پر سولر سسٹمز کے بڑھتے رجحان نے قومی گرڈ کے لیے سنجیدہ چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
جمعرات کو کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں کی سبسڈی اسکیم کے آغاز کے موقع پر وزیرِ توانائی نے بتایا کہ حکومت پیک ڈیمانڈ کم کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ پاور سیکٹر کے قرضوں کی ساخت تبدیل کرکے صارفین پر بوجھ کم کرنے کے امکانات بھی دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق دن کے وقت گرڈ کی طلب کم ہو کر تقریباً 8,000 میگاواٹ رہ جاتی ہے، مگر شام کے پیک اوقات میں یہی طلب بڑھ کر 26,000 میگاواٹ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے، جس کی وجہ سے پاور پلانٹس کو اسٹینڈ بائی رکھنا پڑتا ہے اور لاگت بڑھتی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت نے پاور سیکٹر کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کا معاملہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ اٹھایا ہے، جس میں 30 ارب ڈالر کے چینی قرضے کو طویل مدت میں منتقل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اسی ایجنڈے میں 1.6 کھرب روپے کے گردشی قرضے اور مقامی کمرشل بینکوں سے 1.225 کھرب روپے کی حالیہ فنانسنگ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکام چینی اور مقامی قرضوں کو ری فنانس کر کے 15 سے 20 سال کی مدت کے کم لاگت قرضوں میں تبدیل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سرکاری اندازوں کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر ری فنانسنگ ممکن ہو گئی تو صنعتی بجلی کی قیمت 11.5 سینٹ فی یونٹ سے کم ہو کر 8 سے 9 سینٹ فی یونٹ تک لانے کے امکانات ہیں۔ وزیرِ توانائی نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں قومی بجلی پیداوار میں کلین انرجی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اندازہ ہے کہ 2035 تک یہ 90 فیصد سے بھی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں “لوگوں کی قیادت میں سولر انقلاب” کو عالمی سطح پر سراہا گیا، تاہم ان کے مطابق قیمتوں کی منتقلی کا موجودہ نظام سولرائزیشن کو دیگر صارفین کے لیے بوجھ بنا رہا ہے، جسے ریشنلائز کرنے کی ضرورت ہے۔
پنکھا تبدیلی اسکیم کے بارے میں نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ حکومت نے 90 دن میں اسکیم لانچ کرنے کا ہدف دیا تھا جبکہ ادارے نے تیاریاں مکمل کرکے اسے 81 دن میں آپریشنل سطح تک پہنچا دیا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے فین ریپلیسمنٹ پروگرام میں اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینک ٹرائی پارٹائٹ معاہدے کے تحت شریک ہوں گے، جبکہ حکومت 2 ارب روپے کی رولنگ گارنٹی دے گی تاکہ پہلی قسط کی عدم ادائیگی کے خدشے کو کور کیا جا سکے۔
وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ یہ اسکیم کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے، صارفین کے اخراجات گھٹانے اور گرمیوں میں پیک ڈیمانڈ کم کرنے میں مدد دے گی۔ ان کے مطابق ایک پرانے پنکھے کو جدید کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھے سے تبدیل کرنے پر صارفین کو سالانہ تقریباً 12 ہزار روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے۔





