Agriculture is a priority in CPEC Phase II, major agreements are being prepared between Pakistan and China
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان اور چین 10 اہم زرعی شعبوں میں نجی شعبے کی مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ بات پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان–چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران سامنے آئی۔
کانفرنس میں چین کی 119 اور پاکستان کی 191 کمپنیوں نے شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی دلچسپی کی عکاسی ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق متوقع معاہدوں میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، فشریز، زرعی مداخل، فارم مشینری، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں، جہاں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
زراعت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں باضابطہ طور پر ترجیحی شعبہ قرار دیا جا چکا ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے جن 10 ذیلی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں زرعی کیمیکلز اور مداخل، زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ و ویلیو ایڈیشن، گوشت اور پولٹری، ڈیری مداخل و تیار شدہ مصنوعات، پھل و سبزیاں، اینیمل فیڈ، فشریز و ایکواکلچر، کولڈ چین اور زرعی لاجسٹکس، اور فوڈ گریڈ پیکیجنگ مواد شامل ہیں۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت 2026 کے دوران چین سمیت اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ 25 سے زائد سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (SPS) اور برآمدی پروٹوکولز پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرخیز زمین اور کم لاگت افرادی قوت کے باوجود پاکستان کو زرعی شعبے میں کم ٹیکنالوجی استعمال اور ناکافی انفراسٹرکچر کے باعث تقریباً 95 ارب ڈالر کی پیداواری کمی کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری امور سمیت ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور چین کے تعاون سے اس شعبے کو چند ماہ میں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ویلیو چینز، کولڈ اسٹوریج، گوداموں اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے پاکستانی زرعی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بن سکتی ہیں۔




