Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • بین الاقوامی

جرمنی نے یوکرین کو روس میں اہداف نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

1 minute read
جرمنی نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

جرمنی نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی نے یوکرین کو فراہم کردہ ہتھیاروں سے روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ جرمن چانسلر اولاف شولس کے ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے آج جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ کییف کو یوکرین کی سرحد کے قریب روس کے اندر سے کیے جانے والے حملوں کے خلاف ”بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق‘‘حاصل ہے۔

برلن حکومت کا یہ اقدام امریکی انتظامیہ کے اس اقدام سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے تحت بائیڈن انتظامیہ نے بھی کییف حکومت کو امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں سے روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔

جرمنی نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

ہیبسٹریٹ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں روس نے اپنے علاقوں سے یوکرین پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر شمال مشرقی شہر خارکیف کے ارد گرد، جہاں ماسکو کی افواج نے جنگ میں ایک نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمنی سمیت یوکرین کے دفاع کی حمایت کرنے والے دیگر مغربی اتحادیوں کو ”یقین ہےکہ یوکرین کو حق حاصل ہےکہ وہ ان حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرے۔‘‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا، ”وہ (یوکرین) اس مقصد کے لیے فراہم کیے گئے ہتھیاروں بشمول وہ ہتھیار ، جو ہمارے فراہم کردہ ہیں، کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔‘‘ جرمنی، امریکہ کے بعد یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جس نے کییف حکومت کو بھاری توپ خانے اور راکٹ لانچرز سمیت فوجی ساز و سامان کے ڈھیر فراہم کیے ہیں۔

برلن اب تک یوکرینی تنازعہ بڑھنے کے خوف سے کییف کو روس کے اندر اہداف پر حملہ کرنے کے لیے جرمن ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے سے گریزاں تھا۔ لیکن روسی افواج کی تازہ جارحیت کے سامنے یوکرینی افواج کے دباؤ میں آنے کے بعد صدر وولادیمیر زیلنسکی نے مغربی اتحادیوں سے مزید ہتھیاروں اور پہلے سے فراہم کیے گئے ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال کی درخواست کی تھی۔

جرمنی نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

فرانسیسی صدرایمانویل ماکروں کی جانب سے اس ہفتے کے شروع میں جرمنی کے دورے کے دوران بھی یوکرین کو ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال کی اجازت دینے کا معاملہ ایجنڈے میں سر فہرست تھا۔ ماکروں نے منگل کو چانسلر شولس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یوکرین کو روس کے اندر سے میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والے فوجی اڈوں کو ”نیوٹرلائز‘‘ کرنے کی اجازت دی جانا چاہیے۔ اس کے بعد واشنگٹن میں حکام نے جمعرات کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں سے روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے پر عائد پابندیاں ہٹانے کی اجازت دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس امریکی اقدام کا مقصد روس کے خارکیف پر حملوں کے خلاف یوکرین کو اپنے علاقے کے دفاع میں مدد دینا ہے۔

Tags: جرمنی روس میں اہداف نشانہ بنانے کی اجازت ہتھیاروں یوکرین

Post navigation

Previous: مارگلہ پہاڑیوں پرآگ بے قابو ہونے کی وجہ فائرآپریشن میں سست روی قرار
Next: اسلام آباد پولیس نے ویت نام کے سفیر کی اہلیہ کا سراغ لگا لیا

US B-52 plane crashes during takeoff at Edwards Air Base, 8 killed, investigation underway
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی

ایڈورڈز ایئر بیس پر امریکی بی -52 طیارہ ٹیک آف کے دوران تباہ، 8 افراد ہلاک ، تحقیقات جاری

Gulf tensions benefit Pakistan, with significant increase in ship arrivals at Karachi Port
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

خلیجی کشیدگی نے پاکستان کو فائدہ پہنچا دیا، کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں نمایاں اضافہ

Major economic breakthrough for Iran after the war, $300 billion project under consideration
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

جنگ کے بعد ایران کے لیے بڑی معاشی پیش رفت، 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر غور

یہ بھی پڑہیے

US B-52 plane crashes during takeoff at Edwards Air Base, 8 killed, investigation underway
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی

ایڈورڈز ایئر بیس پر امریکی بی -52 طیارہ ٹیک آف کے دوران تباہ، 8 افراد ہلاک ، تحقیقات جاری

Bangladesh angry over Indian immigration officials' behavior, PM's advisor returns
  • Top News

بھارتی امیگریشن حکام کے رویے پر بنگلہ دیش برہم، وزیراعظم کے مشیر واپس لوٹ گئے

Gulf tensions benefit Pakistan, with significant increase in ship arrivals at Karachi Port
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

خلیجی کشیدگی نے پاکستان کو فائدہ پہنچا دیا، کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں نمایاں اضافہ

Major economic breakthrough for Iran after the war, $300 billion project under consideration
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

جنگ کے بعد ایران کے لیے بڑی معاشی پیش رفت، 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر غور

Calendar

June 2026
MTWTFSS
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930 
« May    

Top News

US B-52 plane crashes during takeoff at Edwards Air Base, 8 killed, investigation underway
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی

ایڈورڈز ایئر بیس پر امریکی بی -52 طیارہ ٹیک آف کے دوران تباہ، 8 افراد ہلاک ، تحقیقات جاری

Bangladesh angry over Indian immigration officials' behavior, PM's advisor returns
  • Top News

بھارتی امیگریشن حکام کے رویے پر بنگلہ دیش برہم، وزیراعظم کے مشیر واپس لوٹ گئے

Gulf tensions benefit Pakistan, with significant increase in ship arrivals at Karachi Port
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

خلیجی کشیدگی نے پاکستان کو فائدہ پہنچا دیا، کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں نمایاں اضافہ

Major economic breakthrough for Iran after the war, $300 billion project under consideration
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

جنگ کے بعد ایران کے لیے بڑی معاشی پیش رفت، 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر غور

Ishaq Dar and Japanese Foreign Minister's telephone conversation — Global recognition of Pakistan's mediation efforts
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

اسحاق ڈار اور جاپانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ — پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تعریف

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بلاگ بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.