
عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر
اسلام آباد(مانیڑنگ ڈیسک) عالمی سیاست کے پیچیدہ منظر نامے میں جہاں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، پاکستان ایک بار پھر ایک “خاموش مگر مؤثر ثالث” کے طور پر سامنے آیا ہے۔ الجزیرہ کے نمائندے اسامہ بن جاوید کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور تزویراتی اتحادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کے بڑے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے۔
سفارتی تاریخ کی اہم کامیابیاں
رپورٹ میں پاکستان کی نصف صدی پر محیط سفارتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان کے لیے ثالثی کا کردار نیا نہیں ہے۔
انیس سو اکہتر (1971) کا تاریخی موڑ: پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا، جب اس وقت کے امریکی مشیرِ خارجہ ہنری کسنجر کی بیجنگ میں خفیہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔
افغان تنازع کا خاتمہ: 1980 کی دہائی میں جنیوا معاہدہ ہو یا 2020 میں قطر میں ہونے والا امریکہ-طالبان امن معاہدہ، پاکستان نے خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امن کے قیام میں مرکزی سہولت کار کی حیثیت برقرار رکھی۔
موجودہ چیلنجز اور چار فریقی کوششیں
اسامہ بن جاوید کے مطابق، آج کی دنیا 1971 کے مقابلے میں کہیں زیادہ منقسم اور پیچیدہ ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے چار فریقی (چوکور) عمل کی قیادت کر رہا ہے جس کا مقصد ایک ایسی جنگ کو روکنا ہے جو پوری تہذیب کے مٹنے کا سبب بن سکتی تھی۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا موقف واضح ہے
“یہ ایک عارضی جنگ بندی ہے۔ ہماری اصل منزل مستقل امن کا حصول ہے۔”
تہران اور واشنگٹن کے درمیان توازن
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف چین اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ اپنی ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد کے باعث پاکستان، تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان بھی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
تاہم، یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ “گہری بے اعتمادی” کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ رہا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ ایران کے رویے پر منحصر ہوگا۔
سفارت کاری یا رسک مینجمنٹ؟
رپورٹ کے اختتام پر یہ اہم نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ ایران، افغانستان، چین اور بھارت جیسے پیچیدہ پڑوس میں رہتے ہوئے غیر جانبدار رہنا اب صرف سفارت کاری نہیں بلکہ “رسک مینجمنٹ” بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے ثالثی صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان وہ اپنی اہمیت اور سالمیت کو برقرار رکھ سکے۔
(بشکریہ الجزیرہ)



