Wednesday, July 24, 2024
Top Newsباڈی شیمنگ کیا ہے؟ پاکستان میں باڈی شیمنگ کا بڑھتا رجحان

باڈی شیمنگ کیا ہے؟ پاکستان میں باڈی شیمنگ کا بڑھتا رجحان

باڈی شیمنگ کیا ہے؟ پاکستان میں باڈی شیمنگ کا بڑھتا رجحان

(تحریر نگار: ماہر نفسیات مدیحہ قمر) رنگ ، نسل، معذوری، سٹیٹس، جسم کے اوپر لوگوں کے کمنٹ، تعلیم میں صرف مارکس کے اوپر زور۔ چاہے ذہنی طور پہ وہ خود بات کرنے والا کتنا ہی پراگندہ ہی کیوں نا ہو۔ آج ہمارا معاشرہ کس نہج پہ ہے، وہاں اس ٹاپک کے اوپر بات کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ چاہے وہ سائیکالوجسٹ کریں یا سوشل ورکرز۔ باہر کے ممالک میں اس ایشو کو انا کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اور ہماری طرف لڑکی ہو یا لڑکا اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے ۔

اس مسئلے کو ایک مکمل ٹاپک یا ایشو کی طرح ڈسکس کرنا انتہائی ضروری ہے ، باڈی شیمنگ پاکستان میں بہت زیادہ عام ہے۔ خاندانی اجتماعات اور تقریبوں میں آپ کی ظاہری شکل کے بارے میں لوگ مذاق میں تبصرے کرتے ہیں، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہمارے معاشرے کے تمام لوگ یہ فضول اور چیپ بات کرتے ہیں جو اس وقت سامنے آتی ہے جب آپ کا جسم عوام کی نظروں میں اور ہر وقت جانچ پڑتال میں آتا ہے۔ ان باتوں کے بعد باتیں سننے والے کی ذہنی حالت کیا ہوگی۔ اس قسم کے لوگ یہ سمجھے بغیر کہ ہم کس قدر بدتمیزی اور بے عزتی کر رہے ہیں، تو ہر وقت کی ان چِیپ اور گھٹیا باتوں سے لوگ اس انسان کو مسلسل بدنی شرمندگی سے اس شخص کا اعتماد ختم کر رہے ہیں جو انتہائی غیر مہذب تبصروں کا نشانہ ہے۔ اور اگر کسی کے امتحان میں نمبرز اچھے نہیں آئے، تب بھی یہ کہنا انتہائی ضروری ہے ان لوگوں کے لیے کہ آج کل نمبرز ہی دیکھے جاتے۔ پڑھائی کے اصل مقصد کو بھلا چکے ہیں ہم۔

لوگوں کی ظاہری شکل پر منفی تبصرہ نہ صرف ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ اس سے ان کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔
میو ہسپتال اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی اور آٹزم کیئر سنٹر میں کام کرنے والی ماہر نفسیات فریحہ رشید کے مطابق، باڈی شیمنگ ایک سوچ سمجھ کر کی جانے والی دماغی وحشیانہ انداز ہے، کیونکہ یہ ایک خوبصورت انسان کو ذہنی طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ یہ عام طور پر جسمانی ظاہری شکل سے متعلق ہے، جیسے جلد کا رنگ، جسم کی ساخت، مہاسے، پیدائش کے نشانات، جھریاں، بڑھاپے، گھونگھریالے بال وغیرہ ہے۔

ویسے میرے نزدیک آپ کتنے ہی اچھے نا بن جائیں، لوگ تو آپ کے لیے بات لازمی کریں گے۔

لوگوں کا اندازہ لگانا کہ وہ کس طرح کے نظر آتے ہیں یا پہنتے ہیں غیر ارادی طور پر ہو سکتا ہے، لیکن یہ جان بوجھ کر کسی شخص کو نیچا دکھانے یا تنزلی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے متعلق کوئی بات کرتا ہے، تو آپ اسے محض مذاق کے طور پر نہیں لے سکتے۔ مثال کے طور پہ وہ آپ کے چہرے پہ بات کرتے ہیں کہ کتنا بڑا منہ ہے، اپنا قد دیکھو، اپنا رنگ دیکھو، تم اتنے کمزور کیوں ہو۔

اس طرح کی باتیں یہ آپ کے انا اور آپ کے عزت نفس پر حملہ کرتا ہے اور آپ کو انتہائی غیر صحت مند ذہن میں ڈال دیتا ہے، اور یہ بدلے میں غیر صحت بخش جذبات کو بھڑکا سکتا ہے، جیسے غصہ اور افسردگی اور دیگر نفسیاتی اثرات۔

’’باڈی شیمنگ اکثر ایسے لوگ کرتے ہیں جو خود ذہنی طور پر پراگندہ ہوتے ہیں، وہ اپنی کنفیوژن، اپنا سٹریس، اپنی جیلسی وہ دوسرے لوگوں پر فضول کمنٹ پاس کر کے کرتے ہیں

“باڈی شیمنگ انسان کے دماغ پر اس قدر تباہ کن اثر ڈالتی ہے کہ متاثرہ شخص خود اعتمادی کی کمی، اعتماد کی کمی، سماجی اضطراب اور حقیقی زندگی میں کام کرنے سے بھی عاجزی کا شکار ہو جاتا ہے۔” مرکز “بعض اوقات، گھبراہٹ کے حملوں کے ساتھ فوبیا بھی ہو سکتا ہے۔” مثال کے طور پر، اگر یہ اسکول یا کالج میں کسی بچے کے ساتھ ہوتا ہے، تو وہ شخص تعلیمی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ اگر یہ کسی کے ساتھ ان کے کام کی جگہ پر ہوتا ہے، تو اس کے نتیجے میں کام کی کارکردگی خراب ہو سکتی ہے۔ بہن بھائیوں کے درمیان، یہ حسد اور دشمنی کو جنم دے سکتا ہے۔ شادی میں میاں بیوی کے تعلقات داؤ پر لگ جاتے ہیں۔ “مزید برآں، وہ شخص پیچھے ہٹ جاتا ہے، سماجی طور پر خود کو الگ تھلگ کر لیتا ہے، کارکردگی دکھانے سے قاصر رہتا ہے، کم اعتمادی کا شکار ہوتا ہے، بعض اوقات جارحانہ ہو جاتا ہے اور مقابلہ کرنے کی کمزور مہارت پیدا کرتا ہے”۔

ہمارا مذہب ان باتوں کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ کسی کے جسمانی اعضاء پر بات کرنا یا مذاق کرنا گناہ ہے ۔ کیونکہ ہم اللہ کی تخلیق ذدہ انسان کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔
بطور ماہر نفسیات اور بحیثیت مسلمان میں اس چیز کی اجازت بالکل نہیں دے سکتی۔

ہم خاموش رہ کر لوگوں کو خود اجازت دے رہے ہیں کہ ہمارا مذاق اڑائیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ ان سے جھگڑا کریں ، یا بدتمیزی کریں۔ نہیں آپ نے یہ نہیں کرنا۔

بلکہ ان کو سمجھائیں کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ پُراعتماد ہو کر بات کریں۔ کیونکہ خاموش ہو کر منظر عام سے بھاگنا آپ کو ذہنی طور پر اور کمزور کرے گا۔ آگے بڑھ کر اس سچویشن کا سامنا کریں۔ یہی آپ کے لیے بہتر ہے ۔

دیگر خبریں

Trending

USA Supports Pakistan India Talks

پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر امریکہ کا تشویش کا...

0
پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر امریکہ کا تشویش کا اظہار اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میھتیو ملر نے کہا،’’ہمیں...