Wednesday, July 24, 2024
آج کے کالمزکیا امریکی لابنگ فرمز پی ٹی آئی کی کھوئی ساکھ واپس دلا...

کیا امریکی لابنگ فرمز پی ٹی آئی کی کھوئی ساکھ واپس دلا سکتی ہیں؟

ایف ڈی پی (فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان) کی ایک حالیہ دستاویز سامنے آئی ہے ،جس کےمطابق پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے جمہوری قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ میں دو لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کی ہیں ۔(فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان ایک گروپ ہے جس کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے اور ملک میں سماجی اور اقتصادی ترقی کی کوششوں میں پاکستان کی جمہوری حکومت کی حمایت کرنا شامل ہے۔)۔اس دستاویز کے مطابق لابی کرنے والوں کی شناخت اسٹیفن پینے اور لوگن سومرا کے نام سے ہوئی ہے۔ معاہدے میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان (FDP) کی شناخت ایل ایل سی اور ایل جی ایس( LGS, LLC) نامی کنسلٹنگ فرم کی کلائنٹ کے طور پہ ہوئی ہے ۔ جو کہ ہیوسٹن، ٹیکساس میں واقع ایک تنظیم ہے ۔ ایف ڈی پی کو پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے نہ کہ کسی حکومت یا غیر ملکی سیاسی جماعت کی طرف سے ۔اس معاہدہ کی رو سےفرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان (ایف ڈی پی) کی جانب سے کیے گئے کام سے پاکستان میں پی ٹی آئی کو مدد مل سکتی ہے۔اس دستاویز کے مطابق کنسلٹنٹس ایف ڈی پی کو اس کے اہداف حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کوشش کریں گے، جس میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان مواصلات اور تعاون کو بہتر بنانا شامل ہے۔
کیا
اس معاہدہ کی مدت 45 دن ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع کی جاسکتی ہے ۔ امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی کے حامیوں نے کنسلٹنٹ کو ان کے کام کے لیے $50,000 کی پیشگی ادائیگی کی ہے۔ اس دستاویز سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایف ڈی پی امریکہ میں ایک کارپوریشن کے طور پر قائم ہے جس کی ملکیت فیاض قریشی نامی شخص کے پاس ہے جو کہ دوہری شہریت رکھتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق فیاض قریشی کی لابنگ فرم کے سربراہ اسٹیفن پائن سے اپنے دفتر میں ملاقات ہوئی۔
کیا امریکی لابینگ فرمز پی ٹی آئی کی کھوئی ساکھ واپس دلا سکتی ہیں؟
اردو انٹرنیشنل
پی ٹی آئی اس سے قبل بھی امریکہ سے اپنے تعلقات کے حوالے سے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کر چکی ہے جیساکہ اس نے مارچ 2023 میں امریکہ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے پریا کنسلٹنٹس، ایل ایل سی کی خدمات حاصل کیں،یہ معاہدہ چھ ماہ تک جاری رہا ۔ اس سے پہلے 2022 میں پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوامی اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے فینٹن/آرلوک کی خدمات حاصل کیں یہ معاہدہ چھ ماہ کے لیے تھا، لیکن پاکستان میں دسمبر 2023 کے انتخابات کے جائزے کے لیے اس معاہدے میں تین ماہ کی توسیع کی گئی ۔ بعد ازاں یہ انتخابات فروری 2024 تک ملتوی کردیے گئے۔
کیا امریکی لابینگ فرمز پی ٹی آئی کی کھوئی ساکھ واپس دلا سکتی ہیں؟
کیا عمران خان پہلے پاکستانی سیاستدان ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کررہے ہیں ؟
نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک اور سیاستدان اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات سے مستفید ہوتے آئے ہیں ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کنسلٹنٹس یا لابیسٹوں میں مسٹر پینے سب سے نمایاں کردار ہیں، جنہیں پہلی بار مشرف حکومت نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے فوراً بعد رکھا تھا۔ مسٹر پاین، کو امریکہ میں پاکستان کے سفارتی مقاصد کے حصول میں مدد کے لیے رکھا گیا تھا۔ کنسلٹنٹس نے بعد میں انکشاف کیا تھا کہ مسٹر پاین اور ان کی ٹیم نے امریکہ سے 3 بلین ڈالر کے امدادی پیکج پر بات چیت کرنے اور پاکستان پر عائد اقتصادی اور فوجی پابندیاں ہٹانے میں پاکستان کی مدد کی۔ انہوں نے پاکستان کو بڑے نان نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل کرنے اور F-16 لڑاکا طیارے اور C-130 طیارے خریدنے میں بھی مدد کی۔ مزید برآں، مسٹر پاینے نے پاکستان تک قدرتی گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے ایک گروپ بنانے میں ترکمانستان کی مدد کی۔ انہوں نے پائپ لائن پر بات چیت کے لیے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے صدور کے درمیان ملاقات کا بھی اہتمام کیا۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لابیسٹس کسی حکومت یا سیاستدان کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہوسکتے ہیں اور ان کی خدمات کسی حکومت یا سیاستدان کے مستقبل پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہیں ۔
عمران خان بھی اس چیز کا شعور رکھتے ہیں اور کسی قیمت پر اپنی مقبولیت اور سیاسی مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے اس لیے وہ لاکھوں ڈالرز خرچ کرکے اس ملک کی لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں جسے وہ اپنے سیاسی وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔
کیا امریکی لابینگ فرمز پی ٹی آئی کی کھوئی ساکھ واپس دلا سکتی ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے 27 مارچ 2022 کو ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران ایک کاغذ لہراتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی’ ،اور ساتھ کہا کہ امریکہ میری حکومت گرانے کی سازش میں ملوث ہے جبکہ دوسری جانب وہ لاکھوں ڈالرز خرچ کرکے امریکہ سے تعلقات استوار کرنے کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا یہ پی ٹی آئی کے دوہرے معیار کی واضح غمازی نہیں ہےاور اس سےواضح ہوتا ہے کہ عمران خان سیاسی بیانیے اور سیاسی حکمت عملی کے استعمال سے خوب آگاہ ہیں ،امریکہ نے عمران خان کے خلاف سازش کر کے ان کی حکومت گرائی یہ ان کا ایک سیاسی بیانیہ ہے جبکہ امریکہ سے ہمدردیاں اور تعلقات میں بہتری کے لیے لابنگ فرمز ہائر کرنا ان کی سیاسی حکمت عملی ہے ۔کیونکہ عالمی طاقتوں کا خاص کر امریکہ کا نہ صرف پاکستان بلکہ تیسری دنیا کے ممالک کی سیاست میں ہمیشہ سے ہی ایک اہم کردار رہا ہے ۔اور یہ بات حقیقت ہے کہ حضور مائی باپ جس شخصیت کو اپنے مفاد میں بہتر سمجھتے ہیں اس کا سیاسی مستقبل روشن ہوجاتا ہے اور جو ان کے مفادکے لیے ذرا سا بھی خطرہ ہو یا ان کی منشاء کے مطابق کام نہ کرے اس کو عرش سے فرش پر آنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔عمران خان امریکہ کے اس کردار سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جب تک بڑی سرکار خوش نہیں ہوگی تب تک چھوٹی سرکار انہیں قبول نہیں کرے گی اور یوں ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔

ہم اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

دیگر خبریں

Trending

District Football Association elections successfully completed

پی ایف ایف کے زیرِ انتظام ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن...

0
اردو انٹرنیشنل اسپورٹس ویب ڈیسک تفصیلات کے مطابق پاکستان فٹبال فیڈریشن نے ملک بھر میں ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن (ڈی ایف اے) کے انتخابات...