Tuesday, July 23, 2024
Top Newsگلیشیئرز کو محفوظ اور گلوبل وارمنگ سے ہم آہنگ ہونے کے لیے...

گلیشیئرز کو محفوظ اور گلوبل وارمنگ سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے،منیر اکرم

گلیشیئرز کو محفوظ اور گلوبل وارمنگ سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے،منیر اکرم

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے ملک میں پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔یہ معاہدہ عالمی بینک کے ذریعے بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے لئے ہوا تھا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقنل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن وسلامتی پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور خوراک کی عدم تحفظ پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے مباحثے کے دوران بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے ساتھ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب دنیا کے کئی حصوں میں سرحد پار آبی تنازعات کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کو اعلی ترجیح دیتا ہے۔ یہ بحث فروری کے لیے سلامتی کونسل کے صدارت کرنے والے ملک گیانا نے منعقد کی ،جس میں تقریباً 90 ممالک نے حصہ لیا۔ پاکستانی مندوب نےکہا کہ پاکستان کا مقصد دریائے سندھ کے طاس کو دوبارہ متحرک کرنا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مربوط آبپاشی کا نظام ہے، جو20کروڑ 25لاکھ ( 225 ملین )سے زائد لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ منیر اکرم نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ اس مقصد کے لیے، پاکستان نے کثیر جہتی لیونگ انڈس منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی پر تنازعات ریاستی، ذیلی قومی اور مقامی کمیونٹی کی سطحوں پر بڑھ رہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ زراعت اور جانوروں کی چراگاہوں خاص طور پر سب صحارا اور وسطی افریقہ میں دہشت گرد گروہوں اور جرائم پیشہ افراد کے ذریعہ مسابقتی دعوئوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ماہی گیری اور ماہی گیری کے حقوق کے استحصال اور ممکنہ طور پر سمندری معدنیات اور وسائل کے لیے لڑائی ہمسایہ ساحلی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنا اہم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انتہائی درجہ حرارت کے باعث پاکستان کے گلیشیئرز خطرناک حد تک پگھل رہے ہیں اور مون سون کے ساتھ ساتھ، 2022 کے سیلاب کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہ کاریوں سے ملک کو 30 بلین ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا اور زراعت اور خوراک کے تحفظ کے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے دنیا بھر کے مندوبین کو بتایا کہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے، ترقیاتی ایجنڈے میں اس مسئلے کو سے نمٹنےکے لئے اقدامات کئے جانے چاہیے۔ پہلے سے ہی قلیل فنڈنگ کو ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اقدامات سے سکیورٹی سے متعلق طریقوں کی طرف نہیں موڑا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قلت زیادہ تر تنازعات کی وجہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی روک تھام کا بہترین ذریعہ پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جیز)) اور ماحولیاتی اہداف کا حصول ہے۔ منیر اکرم نے کہاکہ جب تک سی او پ 28 اور دیگر کانفرنسوں میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا جاتا ماحولیاتی تبدیلی یا پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ترقیاتی اہداف کے حصول میں کردار ادا کر سکتی ہے اور ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی سے متعلق کئے گئے وعدوں کی توثیق کر کے انہیں پابند ذمہ داریوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات، آب و ہوا اور غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے ابھی سے کام کریں۔ ماحولیاتی افراتفری اور خوراک کے بحران عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین اور بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دنیا بھوک اور تنازعات کے درمیان تباہ کن تعلقات کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جو مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ہی ایک صورتحال غزہ کی ہے، جہاں کسی کے پاس کھانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ دنیا کے 7لاکھ بھوکے ترین لوگوں میں سے پانچ میں سے چار غزہ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرے والے تمام 14 ممالک تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں اور 13 ممالک کو انسانی بحران بھی کا سامنا ہے۔

دیگر خبریں

Trending