Friday, June 21, 2024
Top Newsفوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات کے خلاف کیس کی سماعت کرنے

فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات کے خلاف کیس کی سماعت کرنے

فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) پیر کو سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل جانے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل پر سماعت شروع ہوئی تو جواد ایس خواجہ کے وکیل نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ سماعت کر رہا تھا اس بینچ میں جسٹس امین الدین خان، محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بینچ شامل تھے۔

اس دوران لاہور بار کے وکیل حامد خان کی کیس میں دلائل دینے کی کوشش تو جسٹس سردار طارق مسعود نے انھیں روک دیا اور کہا ’اگر ہم نے کیس سننا ہی نہیں تو دلائل نا دیں۔ ہم پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ میں کیس سے الگ ہو جاؤں۔‘

اس کے بعد جسٹس سردار طارق نے بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی اور بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا۔ تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دے گی۔

وکیل خواجہ احمد حسن نے کہا کہ بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججزکمیٹی کوبھیجا جائے۔

یاد رہے کہ نیا بینچ بننے تک نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کا ملٹری ٹرائل جاری رہے گا۔ تاہم حکم ِ امتناعی کے ہوتے ہوئے فوجی عدالتیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ آنے تک مقامات کا سامنا کرنے والے شہریوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں سنا سکیں گی۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی معطلی برقرار رکھی ہے۔

دیگر خبریں

Trending

کروز شپ نےاسپین جانے والے 68 تارکین وطن کو بچا لیا

0
کروز شپ نےاسپین جانے والے 68 تارکین وطن کو بچا لیا اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اسپین کے شہر کینری جانے والے 68 تارکین وطن...