Wednesday, July 24, 2024
آج کے کالمزامریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت

امریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت

معصومہ زہرا
اسلام آباد
حال ہی میں امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول( OFAC) نے ایک پروکیورمنٹ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ کیونکہ یہ نیٹ ورک دو درجن سے زائد امریکی کمپنیوں سے ایران کو غیر قانونی طور پر سامان اور ٹیکنالوجی برآمد کرنے میں ملوث تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان برآمدات کے وصول کنندگان میں ایران کا مرکزی بینک (سی بی آئی) تھا شامل ہے ۔
امریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت
امریکی ،محکمہ خزانہ نے اس سے منسلک تین افراد اور چار اداروں کو نشانہ بنایا ہے ۔ان چار اداروں میں ایران کا مرکزی بینک جسے پاسدارانِ انقلاب ،القدس فورس اور حزب اللہ جیسی تنظیمیں مالی معاونت فراہم کرتی ہیں ۔اس کے علاوہ ان کمپنیوں میں ایک انفارمیٹکس سروسز کارپوریشن (ISC) شامل ہے، جو (سی بی آئی ) کا ذیلی ادارہ ہے اور ایران کے الیکٹرانک بینکنگ سسٹم کو سنبھالتی ہے،اس میں شامل ایک اور کمپنی جسے امریکہ کی جانب سے پابندی کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ، ایڈوانس بینکنگ سلوشن ٹریڈنگ (ABS) ہے، جو متحدہ عرب امارات میں قائم ہے۔ (اے بی ایس)انفارمیٹکس سروسز کارپوریشن کے فرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور اس نے امریکی کمپنیوں سے امریکی سامان اور ٹیکنالوجی اس ارادے سے حاصل کی تاکہ وہ اسے ایران بھیج سکیں ۔ جوکہ امریکی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں واقع فریڈم سٹار جنرل ٹریڈنگ کمپنی جس کے صدر محمد رضا خادمی ہیں ۔ خادمی نے فریڈم سٹار کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ سے سامان اس لیے لیا کہ وہ یہ سامان ایران کے علاوہ دیگر ممالک کو برآمد کریں گے مگر درحقیقت خادمی نے انفارمیٹکس سروسز کارپوریشن کو سامان کی ترسیل میں سہولت فراہم کی ۔ انفارمیٹکس سروسز کارپوریشن (ISC) کی ایک شاخ ترکی میں بھی ہے جسے (Ted) کہتے ہیں۔( Ted) ترکی میں (آئی ایس سی) کے نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے اور (آئی ایس سی ) کو فرنٹ کمپنیوں کی مدد سے امریکی سامان اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ( آئی ایس سی )کے ملازمین میں سے ایک، پوریا میردامادی، جو فرانس اور ایران کی دوہری شہریت رکھتی ہے، ٹیڈ کے کاموں میں سہولت کار ہیں ۔
اس کے علاوہ امریکی محکمہ خزانہ نے (آئی ایس سی )کے سی ای او سید ابوطالب نجفی کو اس لیے نامزد کیا کیونکہ انہوں نے سامان کے حصول کی نگرانی کی اور اس کی منظوری دی۔
ایران پر امریکی پابندیوں کی تاریخ
ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ان پابندیوں میں سب سے اہم جوہری معاہدے پر پابندی ہے کیونکہ امریکہ اسے ماحولیاتی صحت کے لیے خطرہ سمجھتا تھا ۔جس سے ایران کی معیشت مشکلات کا شکار رہی ۔بلآخر 2015 میں ایران کے صدر روحانی امریکہ اور پانچ اور بین الاقوامی طاقتوں سے جوہری معاہدے کو محدود کرنے کے معاہدے پر رضا مند ہو گئے ۔بعد ازاں 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے دستبرادار ہوگئے ،اس دستبرداری کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردیں ۔
امریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت

جن میں سب سے اہم ایران کے تیل کی برآمدات پر پابندی تھی ۔ تیل برآمد کرنے والی ملکوں کی تنظیم( او پیک) کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے اوائل میں ایران کی خام تیل کی پیداوار 3.8 بلین بیرل تک پہنچ گئی تھی جبکہ ایران صرف 2.3 ملین بیرل فروخت کر پارہا تھا ۔ لیکن ایران کے ہمسائیہ ممالک جیسا کی ترکی اور چین نے ان پابندیوں کو سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی خریدو فروخت مکمل طور پر جائز اور قانونی ہے اور امریکہ کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ۔

امریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت
US sanctions on Iranian oil and petrochemical trade

ا س کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ایران پر اسلحے کی بین الاقوامی خریدو فروخت پر بھی پابندی عائد ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ایران کی سر گرمیاں خطے میں امن کے عدم استحکام اور دہشتگردی پر مبنی ہیں ۔اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں عائد ہیں ۔ مزید برآں 2018 میں ہی امریکہ کی جانب سے ایران پر ڈالر خریدنے یا اپنے قبضے میں رکھنے ، سونےاور دیگر قیمتی معدنیات کی تجارت پر پابندی، المونیم، گریفائٹ اور کوئلے جیسی معدنیات کی تجارت پر پابندی، ایرانی قرضوں کے ذرائع میں سرمایہ کاری پر پابندی اور ایرانی آٹوموبائل سیکٹر پر پابندی شامل ہے۔ اس پہلے 2019 میں بھی امریکہ نے ایران پر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کی منصوبی بندی کے الزام میں ایران کے مرکزی بنک پر پابندی لگائی تھی ۔امریکہ اقوام متحدہ میں دوبارہ پابندیاں عائد کرنے میں ناکام ہوگا: ایران

امریکہ کی پابندیاں ایران کی مزاحمت
Iran’s strategy for US economic sanctions

ایران کا امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں پر ردِعمل:
ایران بارہا ان پابندیوں کو ناانصافی اور زیادتی قرار دے چکاہے۔2020 میں ایران امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا دروازہ بھی کھٹکھٹا چکا ہے ۔ایران نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں یہ موقف اپنایا تھا کہ امریکی پابندیاں اس کی معشیت کو تباہ اور ایران میں ‘لاکھوں افراد کی زندگیاں برباد’ کر رہی ہیں، لہذا عالمی عدالت تہران پر عائد امریکی پابندیوں کو معطل کر دے۔ دوسری جانب امریکہ نے عالمی عدالت انصاف پر یہ زور دیا تھا کہ وہ اس کیس کو مسترد کردے ۔ امریکہ کا موقف تھا کہ ایران پر ان کی جانب سے پابندیاں بالکل جائز ہیں کیونکہ ایران بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے ۔ جبکہ ایران کا موقف ہے کہ وہ خطے میں دہشتگردی نہیں بلکہ امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں جو کہ سرا سر ناانصافی اور ظلم پر مبنی ہیں ۔ مزید ایران کا ماننا یہ ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کے متعلق پالیسیاں سراسر اس کے اپنے مفاد جبکہ خطے کے مفاد کے لیے تباہ کن ہیں ۔ امریکہ خطے میں اسرائیل کا حمایتی ہے اور اسے جنگی اسلحہ فراہم کرتا ہے جوکہ اس کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ حال ہی میں حزب اللہ کے جنرل سیکٹری سید حسن نصراللہ نے ” یومِ شہداءِ قائدین” جو ہر سال 16 فروری کو منایا جاتا ہے ، پر لبنان کے دارالحکومت بیروت سے براہ راست نشر ہونے والے ٹیلی ویژن خطاب میں ،غزہ میں نسل کشی اور اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت پر واشنگٹن کی سرزنش کی اور کہا کہ “بنیادی طور پر امریکی حکام خطے میں بہائے گئے خون کے ہر قطرے کے ذمہ دار ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ، اور ساتھ ہی اپنے خطاب میں یہ واضح کیا کہ ان کے سامنے دو انتخاب ہیں ،مزاحمت یا ہتھیار ڈالنا ، انہوں نے کہا کہ ،ہتھیار ڈالنے کی قیمت بھاری، خطرناک اور بہت نازک ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ “ہتھیار ڈالنے کا مطلب ہے اپنے بزرگوں، اپنے بچوں، عزت اور دولت کے لیے سر تسلیم خم کرنا، ذلت، غلامی، اور حقارت قبول کرنا ۔”لبنان میں ہتھیار ڈالنے کی قیمت کا مطلب ہمارے ملک پر اسرائیل کا سیاسی اور اقتصادی تسلط ہے۔” مزید یہ کہ انہوں نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک تل ابیب حکومت غزہ پر اپنے حملے جاری رکھے گی وہ اپنی انتقامی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
انگریزی میں پڑھیں

دیگر خبریں

Trending

District Football Association elections successfully completed

پی ایف ایف کے زیرِ انتظام ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن...

0
اردو انٹرنیشنل اسپورٹس ویب ڈیسک تفصیلات کے مطابق پاکستان فٹبال فیڈریشن نے ملک بھر میں ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن (ڈی ایف اے) کے انتخابات...